نئی دہلی،7جون؍(آئی این ایس انڈیا)5ریاستوں میں اسمبلی الیکشن میں شکست کے بعداب کانگریس میں رہنماؤں کی بغاوت کا سلسلہ چل پڑا ہے۔سابق مرکزی وزیراورسینئرلیڈرگروداس کامت نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا اور سیاست سے ریٹائرمنٹ لینے کا اعلان بھی کر دیا۔چھتیس گڑھ میں اجیت جوگی نے کانگریس چھوڑکر نئی پارٹی بنا لی۔وہیں تریپورہ کے 6باغی کانگریس ممبران اسمبلی نے اسمبلی صدر کو ٹی ایم سی جوائن کرنے کا خط دے دیا۔یوپی میں اقلیتی مورچہ نے پارٹی لائن سے ہٹ کر راہل گاندھی کو کانگریس کی کمان دینے کی بات کہی ہے۔ادھر راہل نے بھی مسائل کو حل کرنے کا طریقہ تلاش کیا ہے۔ان کے مطابق10سینئرلیڈرزکا’’ایڈوائزربلاک‘‘پارٹی کے اہم مسائل پر فیصلہ کرے گا۔پیر کو ایک ساتھ4ریاستوں سے بری خبریں آنے پر کانگریس بیک فٹ پر آ گئی ہے۔اس درمیان ذرائع کا کہنا ہے کہ راہل کا ایڈوائزربلاک بی جے پی کے پارلیامینٹری بورڈ جیسا ہوگا۔پارٹی کے سینئر لیڈر اس کی طاقت کولے کربھی سوال اٹھا رہے ہیں۔فی الحال کانگریس کے سارے فیصلوں کا مرکز نیشنل ایڈوائزری کونسل ہے، جس کی کمان سونیا گاندھی کے پاس ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ بلاک میں بزنس مین اور سماجی کارکنان بھی ہوں گے۔راہل اس میں پی چدمبرم اورغلام نبی آزاد جیسے سینئر لیڈرز کو شامل کرنا چاہتے ہیں۔ذرائع کی مانیں تو بلاک کے ذریعے راہل ایک اجتماعی قیادت کی مثال پیش کرنا چاہتے ہیں۔اس نئی ٹیم کااعلان11جون کو ہونے والے راجیہ سبھا انتخابات کے بعدکیاجاسکتاہے۔